پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو عوام اپنا حق ادا کرے گی اور ملک کو جمہوریت کی طرف لے کر جائے گی۔

افواج پاکستان کا کام صرف معاونت فراہم کرنا ہے انتخابات کرانے کا کام الیکشن کمیشن کا ہے۔

افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہی ہے، 1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

صاف اور شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا اور 2018 کے انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمشین نے فوج سے صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد میں مدد مانگی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ہمیں 6 کام دیے ہیں، اس میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کیا جائے، دوسرا بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا، اس کے علاوہ انتخابی سامان کی ترسیل کرنا ہے، پولنگ اسٹاف اور ریٹرننگ افسران کی سیکیورٹی ہے.

پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی فراہم کرنا افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے.

بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ افواج کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے.

ملک بھر میں 85 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے افواج پاکستان کو 3 لاکھ سے 71 ہزار سے زائد اہلکار درکار ہیں.

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال کے باعث اتنی نفری الیکشن کے لیے تعینات کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے 5 سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے فوجی اہلکاروں، پاکستان نیوی اور ایئرفورس کے اہلکاروں کو بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا.

فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر کرنی ہے.

پریس بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے اور 21 جولائی تک اس کا عمل مکمل ہوجائے گا اور فوج اس عمل میں صرف سیکیورٹی کے لیے موجود ہے اور اس کی ترسیل کے دوران الیکشن کمیشن کا افسر کی موجودگی ضروری ہے.

انتخابات میں پولنگ سے 3 دن پہلے سیکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان موجود ہوں گے.

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ حساس پولنگ اسٹیشن میں 2 فوجی اندر اور 2 باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ اسٹیشن میں فوجی کے ساتھ ساتھ پولیس بھی موجود ہو گی۔

انتخابات کی شفافیت یہ ہے کہ اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گنتی کے وقت ان کی تعداد یہی ہو اور ہر شخص ایک ہی ووٹ ڈال سکے۔

پولیس کی ذمہ داری پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا، کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ووٹرز سے زبردستی کرے۔

میڈیا سے درخواست ہے کہ جو جوان ڈیوٹی پر ہو اس سے سوالات کرنے سے گریز کیا جائے اور انہیں میڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں لیا جائے۔

افواج پاکستان اپنے جوانوں کا خیال کرتی ہے اور ان سے محبت کا اظہار یہی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کی راہ میں خلل نہ ڈالا جائے۔

ہماری کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے، میں عوام سے کہنا چاہوں گا کہ جتنی تعداد میں آپ ووٹ ڈالنے آئیں گے اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے۔

اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کونسا ایسے انتخابات تھے، جس سے پہلے یہ نہ کہا گیا ہو کہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، کوئی ایسے انتخابات بتائے جس سے پہلے کسی سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، افواج پاکستان نے 15 سال سے قومی فریضہ انجام دیا اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ سب کچھ برداشت کیا جو عام حالات میں برداشت نہیں کرسکتے، کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے لیکن یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان افواج کی ساری توجہ اہم ملکی معاملات پر مرکوز کی جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو یہ پہلی مرتبی نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کال کرے کہ ایسا کردیں تو ایسا ہوجائے گا۔

پریس بریفنگ کے دوران انتخابات میں انجینئرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کا یہ سب افواج پاکستان پر الزامات ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کہا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں ہے لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا، اس طرح کی چھوٹی باتوں کو اس طرح پیش کرنا کہ دھاندلی ہوگئی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی تصویر کو انتخابی پوسٹر پر استعمال کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔

چوہدری نثار اور دیگر رہنماؤں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں ہے اور انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہوگا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔

سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس کے تحفظ پر کام کیا جارہا اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کراسکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے انتخابات میں کتنا مفاد ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔

کالعدم تنظیموں کی الیکشن میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا کہ کالعدم تنظیم کے افراد کا جائزہ لے، فوج کا انتخابی امیدوار کی اہلیت سے متعلق کوئی تعلق نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here