وزیر خارجہ کا صدر جنرل اسمبلی جناب والکن بوذکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

0
84

وزیر خارجہ کا صدر جنرل اسمبلی جناب والکن بوذکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

معزز خواتین و حضرات

مجھے آج ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر جناب والکن بوذکر کو وزارت خارجہ میں خوش آمدید کہتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے

پاکستان کو اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے جناب والکن بوذکر کے منصب سنبھالنے سے قبل ان کی میزبانی کا شرف حاصل کیا

آپ کا یہ دورہ بھی تادیر یاد رکھا جائے گا کیونکہ آپ نیویارک میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد تشریف لائے ہیں

سلامتی کونسل میں اتفاق رائے کی ناکامی کے بعد او آئی سی، عرب گروپ،اور نیم آپ کی جانب دیکھ رہے تھے

میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا

ہم صدر جنرل اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس میں تھے کہ سیز فائر کی خبر سامنے آئی

آپ نے وہاں تقریر کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا جو غیر عمومی تھا

ہمارا نیویارک آنے کا ابتدائی مقصد سیز فائر کے حوالے سے ہمیں حاصل ہوا

لیکن ابھی چنگاری سلگ رہی ہے

ہم آپ سے اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کیلئے “امن عمل” کا آغاز کریں گے

ہماری خواہش ہے کہ آپ اپنا قائدانہ کردار ادا کریں

کل وزیر اعظم عمران خان کی جنرل سییسی کے ساتھ بہت سود مند گفتگو ہوئی

میں نے آج صدر جنرل اسمبلی کے ساتھ فلسطین اور کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا

فلسطین اور کشمیر کی صورتحال میں گہری مماثلت ہے

دونوں جگہ آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا مسئلہ درپیش ہے

فلسطین اور کشمیر دونوں جگہوں پر نہتے لوگوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کشمیر میں بھی یہی ہو رہا ہے

فلسطینی اور کشمیری پوچھتے ہیں کہ ہم سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہیں مگر کہاں ہیں؟

میں نے صدر جنرل اسمبلی کو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں سے آگاہ کیا

استنبول پراسس، کے حوالے سے استنبول میں پاکستان، افغانستان، ترکی کے مابین سہ فریقی اجلاس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی

آج صورتحال تبدیل ہو چکی ہے آج پاکستان کو مسائل کا موجب نہیں بلکہ مسائل کے حل کا حصہ سمجھا جاتا ہے

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے بھی ہماری گفتگو ہوئی

میں آپ سب کا شکرگزار ہوں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here