وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے سامنے اظہار خیال

0
288

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے سامنے اظہار خیال

میں روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ عزت مآب سرگئی لاوروف کو آج وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔

ہمارے وفود کی سطح پر مذاکرات ابھی مکمل ہوئے

روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نئ جہت اور بلندی اختیار کر رہے ہیں

روس کے ساتھ کثیرالجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔ ہماری جغرافیائی سرحد سے آگے واقع روس کو ہم خطے اور عالمی منظر نامے میں استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔

روس اقوام متحدہ کی مرکزیت اور عالمی قانون وکثیرالقومیت کی بنیاد کا بھرپور مبلغ ہے۔

یہ باعث اطمنان ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔

ہمارا اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر تعاون بہترین ہے اور ہم اسے مزید مستحکم بنا رہے ہیں

ہمارے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ہم یکساں فوائد کے حامل تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔

ہمارے تجارتی تعلقات میں پچھلے برس مزید اضافہ ہوا ہے

آج ہماری گفتگو میں ہم نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں پر بات چیت اور تبادلہ خیال کیا کہ ان تعلقات کو اور بھی زیادہ تحریک اور تقویت کس طرح سے مل سکتی ہے۔ ہم نے ان طریقوں پر غور کیا جس سے تجارت سمیت دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو۔

ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ’پاکستان اور روس بین الحکومتی کمشن‘ کا آئندہ اجلاس کورونا سے متعلق پابندیوں کے نرم ہوتے ہی جلد بلانا چاہئے۔

ہم نے ’نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن‘ منصوبے سمیت توانائی کے شعبہ میں تعاون پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

ہم نے انسداد دہشت گردی اور دفاع سمیت سکیورٹی کے شعبے میں ہمارے درمیان تعاون کا بھی جائزہ لیا۔

مجھے خوشی ہے کہ روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا

ہم نے ’ملٹی لیٹرل‘ ایجنڈا کے زیادہ تر امور پر پاکستان اور روس کے موقف میں یکجائی دیکھی ۔

افغانستان کے حوالے سے ہم نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن واستحکام کے لئے افغانستان میں امن واستحکام نہایت ناگزیر ہے۔

ہم نے افغان قیادت میں افغانوں کو قابلِ قبول امن عمل کے لئے ہماری حمایت کا اعادہ کیا۔

میں نے وزیر خارجہ لاوروف کو گزشتہ ماہ ماسکو میں افغانستان پر ’ایکسٹینڈڈ ٹرائیکا اجلاس ‘ کے کامیاب انعقاد پر مبارک دی۔

میں نے روسی وزیر خارجہ کو جنوبی ایشیاءمیں امن وسلامتی کے بڑے سوال، بھارت کے ساتھ ہماری سرحد پر نازک صورتحال اور غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔

میں نے انہیں پاکستان اور بھارت کے مابین 2003 کے سیز فائر معاہدے کی دو طرفہ پاسداری کے حوالے سے آگاہ کیا

ہم پراعتماد ہیں کہ اس دورے سے ہماری دوستی کو گہرا کرنے کا عمل مزید تیز ہوگا۔

میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ہم نے روس کی تیار کردہ سپوٹنک 5 ویکسین کو پاکستان میں رجسٹرڈ کیا ہے اس ویکسین کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں مخدوم شاہ محمود قریشی

روس صحت کی سہولیات کے حوالے سے ایک ایڈوانس ملک ہے مخدوم شاہ محمود قریشی

پاکستان، روس کے اشتراک سے اس ویکسین کی مقامی سطح تیاری کے پہلوؤں غور کر رہے ہیں مخدوم شاہ محمود قریشی

ہم نے پاکستان کو پچاس ہزار ڈوزز مہیا کی ہیں مزید ایک لاکھ پچاس ہزار ڈوزز فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں روسی وزیر خارجہ

ہم کرونا ویکسین کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے روسی وزیر خارجہ

ہمارے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات میں دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی

ہم دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے خواہشمند ہیں روسی وزیر خارجہ

ہم پاکستان کے ساتھ نارتھ ساؤتھ گیس منصوبے کے جلد انعقاد کے خواہاں ہیں روسی وزیر خارجہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here