وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ،ہنگری کے وزیر خارجہ و تجارت جناب پیٹر سجارتو کے ہمراہ بزنس کمیونٹی سے خطاب

0
205

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ،ہنگری کے وزیر خارجہ و تجارت جناب پیٹر سجارتو کے ہمراہ بزنس کمیونٹی سے خطاب

عزت مآب جناب پیٹر سجارتو ،وزیر خارجہ و تجارت ہنگری

محترم اراکین وفد و ممبران بزنس کمیونٹی

معزز خواتین و حضرات ،

جناب پیٹر سجارتو وزیر خارجہ و تجارت ہنگری مجھے آپ کو اور آپ کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی کہ آپ میری دعوت پر پاکستان تشریف لائے

کرونا وبا کے دوران ،آپ کی آمد ہمارے دو طرفہ تعلقات کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے

آپ کا یہ دورہ ہمارے دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ اور پاکستان – ہنگری دوستی کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے

مجھے توقع ہے کہ ہمارے یہ دو طرفہ تعلقات، یہاں سے مزید آگے بڑھیں گے

میں کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں آپ کی حکومت کی کامیابی کو سراہنا چاہتا ہوں

آپ کی 37٪ سے زائد آبادی کو کرونا ویکسین لگائی جا چکی ہے( یہ شرح یورپی ممالک میں سب سے زیادہ تسلیم کی جاتی ہے)

پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر زیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہو رہی ہے

جب سے یہ وبا منظر عام پر آئی ہے حکومت پاکستان، انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ، معیشت کو بچانے کیلئے اپنی بھرپور کاوشیں بروئے کار لا رہی ہے

حکومت پاکستان، معاشرتی پابندیوں، سمارٹ لاک ڈاؤن اور ویکسینیشن کے ذریعے اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے

ہمیں توقع ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ دنیا سے جلد اس تباہ کن وبا کا خاتمہ ہو

میں آپ کو ہماری اقتصادی ترجیحات کے حوالے سے آگاہ کرنا چاہوں گا

وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہماری جغرافیائی سیاسی ترجیحات، جغرافیائی معاشی ترجیحات میں بدل چکی ہیں

ہمارا اقتصادی سیکورٹی نظام، امن، ترقی میں شراکت داری اور روابط جیسے تین ستونوں پر استوار ہے

ہماری معاشی سفارت کاری کے اھداف میں مالی بہاؤ، سرمایہ کاری کا فروغ، ترسیلات زر، سیاحت اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ، شامل ہیں

گذشتہ دو برس میں، حکومت کی مثبت اقتصادی اصلاحات کے سبب “پاکستان میں کاروباری سہولیات کی درجہ بندی میں 39 درجے اضافہ ہوا ہے

دنیا کے دس، سازگار کاروباری ماحول رکھنے والے ممالک میں پاکستان چھٹے نمبر پر آ چکا ہے

ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مزید سہولیات فراہم کر رہے ہیں

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 9 خصوصی اقتصادی زونز ،تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں جو دوسرے ممالک کے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لیے بہترین موقع فراہم کرتے ہیں

ہم نے بیرونی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی سہولت کیلئے ای ویزا کا اجراء کیا ہے

ہم بحری معیشت (Blue Economy ) پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں – حکومت نے 2020 کو بحری معیشت کا سال قرار دیا ہے

ہم پاکستانی مصنوعات کو Intellectual Property Regime کے تحت رجسٹرڈ کروا رہے ہیں ان مصنوعات میں باسمتی چاول، گلابی خوردنی نمک، کنّو وغیرہ شامل ہیں

وزیر اعظم عمران خان کے اقتصادی وژن کی روشنی میں ہم نے گذشتہ سال “معاشی سفارت کاری” کا آغاز کیا

میں نے ہمیشہ اقتصادی ترقی کیلئے، معاشی سفارت کاری کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا

معاشی سفارت کاری، کامیاب خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے

گذشتہ ایک سال میں، میں نے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے پہلوؤں کو ڈھونڈنے کیلئے تمام پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ ذاتی طور پر رابطے میں رہا

درحقیقت آج کی یہ میٹنگ بھی انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے جب میں نے پہلے پاکستان – ہنگری اقتصادی ونڈو کے افتتاحی اجلاس میں وزیر خارجہ سجارتو کو مدعو کیا اور انہوں نے میری دعوت کو شرف قبولیت بخشا

مجھے قوی امید ہے کہ آپ کا اس کاروباری وفد کے ساتھ پاکستان آنا، پاکستان اور ہنگری کے مابین تجارتی و اقتصادی تعلقات کے ایک نئے باب کے آغاز کا باعث ہو گا
میں امید رکھتا ہوں کہ اسی طرح پاکستانی بزنس مینوں کا ایک وفد جلد ھنگری کا دورہ کرے گا

مجھے خوشی ہے کہ آج پاکستان کی اعلیٰ سطحی کاروباری شخصیات، ہنگری کے صف اول کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں اور کاروبار کے مختلف پہلوؤں کو تلاش رہے ہیں

میں چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات کے مابین یہ رابطے، تواتر کیساتھ بحال رہیں اور فریقین کے لیے فائدے کا باعث بنیں

بڑھتے ہوئے یوریشین (Eurasian ) تعاون اور تیزی سے پنپتے ، باہمی انحصار بالخصوص تجارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو سامنے رکھتے ہوئے، دیکھا جائے تو دونوں ممالک اہم “اسٹریٹیجک مقام” پر واقع ہیں

ہنگری یورپ کے اس حصے میں واقع ہے جہاں بین الاقوامی معیار کی سستی ٹیکنالوجی دستیاب ہے جبکہ پاکستان اور اس کے گردونواح ، ہنگری کی کمپنیوں کو کاروبار میں توسیع کیلئے وسیع مارکیٹ فراہم کر سکتے ہیں

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ گذشتہ کچھ دہائیوں میں ہنگری نے مختلف شعبہ جات میں بے مثال ترقی کی ہے

ان شعبوں میں زراعت، ماحولیاتی صنعت ، شہری ترقی کے ذرائع، مکینکل و ایلیکٹرونک انجینئرنگ، ہائیر ایجوکیشن، صحت، تہزیب /میوزک اور اسپورٹس شامل ہیں
یہ تمام شعبہ جات ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں

لہذا ہم ھنگری کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے، ان شعبہ جات میں ماہرین کی سطح پر انگیجمنٹس کے خواہشمند ہیں

ہم آبی وسائل کے حوالے سے ہنگری کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں

ہماری واٹر ریسورس مینجمنٹ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت ،اس شعبہ میں “ماہرین کی سطح” پر انگیجمنٹ کا موقع فراہم کریگی

پاکستان ماحول کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے ویسٹ مینجمنٹ سے منسلک ھنگری کی کمپنیاں اس شعبہ میں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کر سکتی ہیں

ہم ہنگری کے کاروباری حضرات /کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں اور حکومتی مراعات سے مستفید ہوں

معاشی شراکت داری کیلئے “توانائی” ایک اہم شعبہ ہے

ایم-او – ایل پاکستان، ایم – او – ایل گروپ کی ایک شاخ کے طور پر 1999 سے پاکستان میں کاروبار کر رہی ہے

ہمیں توقع ہے کہ ایم او ایل گروپ، ہنگری کی کاروباری کمپنیوں کو ، پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب کیلئے، ہمارے سفیر کا کردار ادا کریگا

ہمیں توقع ہے کہ ایم او ایل اپنے کاروبار کا دائرہ کار “قابلِ تجوید توانائی (Renewable energy ) تک بڑھائے گا

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں وزیر خارجہ سجارتو سے گذارش کروں گا کہ وہ پاکستان کی صف اول کی مصنوعات، چاول، آم، چمڑے کی مصنوعات، آلات جراحی، فٹبال اور دیگر کھیلوں کے سامان کو ہنگری میں متعارف کروانے کی پاکستانی کاوشوں کی حمایت کریں تاکہ ہمارے ہنگری کے دوست ان اعلیٰ مصنوعات سے مستفید ہو سکیں

میں توقع رکھتا ہوں کہ ہماری بزنس کمیونٹیز کے باہمی روابط کے نتیجے میں ہماری دو طرفہ تجارت کا حجم، اگلے سال تک 100 ملین ڈالر سے تجاوز کریگا

مجھے خوشی ہے کہ آج پاکستانی اور ہنگیرین کمپنیوں کے مابین ڈیری، ادویات سازی اور سائیبر سیکورٹی کے شعبوں میں کاروباری معاہدے طے پا رہے ہیں

ہم وزیر اعظم عمران خان کے وژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان اور ہنگری کے مابین دو طرفہ تجارت، کاروبار اور روابط کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے

آخر میں، میں ایک دفعہ پھر ہنگری کے وزیر خارجہ جناب پیٹر سجارتو اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بزنس کمیونٹی کے وفد کا شکرگزار ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ آج جن روابط کی بنیاد رکھی جا رہی ہے یہ پھلتے پھولتے رہیں گے اور دونوں ممالک کیلئے انتہائی سود مند ثابت ہونگے

آپ سب کا بہت شکریہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here