وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ بلوچستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد آباد ہے حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے گی

0
1050

کوئٹہ 04اکتوبر :۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ بلوچستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد آباد ہے حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے گی اور اقلیتی امور کا علیحدہ انتظامی محکمہ قائم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہنگلاج ماتا کمیٹی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے رکن صوبائی اسمبلی دنیش کمار کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ سابق صوبائی وزیر پرنس احمد علی بلوچ اور رکن صوبائی اسمبلی بشریٰ رند بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے لئے تمام اقلیتیں قابل احترام ہیں اورصوبے میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ، ملازمتوں میں اقلیتوں کے کوٹہ پر عملدرآمد پر کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ صرف لسبیلہ کے ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور تمام عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی ان کی ذمہ داری ہے جن میں اقلتیں بھی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے رکن صوبائی اسمبلی دنیش کمار کو اقلیتوں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے فوکل پرسن کی حیثیت سے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوؤں اور دیگر اقلیتی نمائندوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے رہیں تاکہ ان کے حل کے لئے اقدامات کئے جاسکیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اقلیتی امور کے لئے علیحدہ انتظامی محکمے کے قیام کے لئے کابینہ سے منظوری حاصل کر کے قانون سازی کی جائے گی۔ اس موقع پر وفد کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ہنگلاج مندر کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہنگلاج مندر ایک قدیم عبادت گاہ ہے حکومت مندر میں آنے والے زائرین کے لئے سہولتوں میں اضافہ کرے گی۔

کوئٹہ 04اکتوبر :۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان جو کہ بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین بھی ہیں نے کونسل کا پہلا اجلاس طلب کر لیا ہے جس کا انعقاد آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گاجس میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق امور کا جائزہ لے کر صوبائی سطح پر موحولیاتی تحفظ کے حوالے سے جامعہ پالیسی مرتب کی جائے گی۔ محکمہ ماحولیات سے متعلق امور کے جائزہ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے بلوچستان انوائر منٹل پروٹیکشن کونسل جیسے اہم فورم کی تشکیل کے باوجود تاحال کونسل کا اجلاس طلب نہ کئے جانے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اہم امور کو سنجیدگی سے نہ لینے کے باعث بہت سے مسائل پیدا ہوئے تاہم اب ہم تمام اداروں اور فورمز کو فعال کردار ادا کرنے کے لئے تیار کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ کونسل میں ماحولیات سے تعلق رکھنے والے اداروں کے وزراء کو بھی شامل کیا جائے تاکہ عوامی نمائندوں کی اس اہم کونسل میں شرکت سے ماحولیات کے حوالے سے سیاسی شعور بیدار ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ جو ادارے ریونیو حاصل کرتے ہیں انہیں خود انحصار بنانے کے لئے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور اس حوالے سے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں تمام شعبوں میں کام کرنے اور بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے اور یہ کام زیادہ مشکل بھی نہیں ہے صرف لگن اور خلوص کی ضرورت ہے۔اجلاس میں ریجنل سطح پر بلوچستان انوائرمنٹل ایجنسی کو وسعت دینے سے اتفاق کرتے ہوئے محکمہ ماحولیات کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ ماحولیات کی خالی آسامیوں پر اس شعبہ کے سپیشلائزڈامیدواروں جنہوں نے متعلقہ مضمون میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے کو ترجیح دی جائے گی جبکہ محکمہ ماحولیات کو وسعت دے کر اسے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی بنایا جائے گا ۔اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ نجی و سرکاری شعبہ کے تمام ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلوں کو مد نظر رکھنے کے لئے محکمہ ماحولیات رہنما اصول فراہم کریگا اور تمام متعلقہ نجی و سرکاری اداروں پر اس کی پابندی لازم ہوگی۔ اجلاس میں نجی اور سرکاری ہسپتالوں ، کلینکس اور لیبارٹریوں کے فضلہ کو حفظان صحت کے مطابق ٹھکانے لگانے کی مانیٹرنگ کیلئے ہوسپٹل ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کی اصولی طور پر منظور بھی دی گئی جبکہ محکمہ ماحولیات کو ہسپتالوں کے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے عمل کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں سمندری حدود میں آلودگی کے خاتمے ، پلاسٹک بیگز کے استعمال کی حوصلہ شکنی، ماحولیاتی تحفظ کے لئے عوامی شعور کی بیداری اور شجرکاری میں اضافہ سے متعلق امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔سیکرٹری محکمہ ماحولیات عبدالصبور کاکڑ نے اجلاس کو محکمانہ امور سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ کے انسپکٹرز ہسپتالوں ، لیبارٹرز اور پرائیویٹ کلینکس میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے عمل باقاعدگی کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائی کی جاری ہے جن میں ان کی بندش اور جرمانہ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لئے انسیلنیٹر نصب کیا ہے جبکہ محکمہ ماحولیات نے سول ہسپتال کوئٹہ میں بھی انسیلنیٹر کی تنصیب کی سفارش کی ہے جس میں متعلقہ ہسپتال اور نجی ہسپتالوں کو فضلہ ٹھکانے لگانے کی سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے بتایا پلاسٹک کے تھیلوں کے نعم البدل کے طور پر ایسے بیگز متعارف کئے جارہے ہیں جو چار سے پانچ ماہ میں خود بخود تلف ہوجاتے ہیں ان بیگز کی تیاری کے لئے نجی شعبوں میں دو فیکٹریاں قائم ہیں جہاں تیار کردہ بیگز کو ٹیسٹ کے لئے لاہور بھیجوایا گیا ہے رپورٹ کی وصولی کے بعد ان
بیگز کو مارکیٹ میں متعارف کیا جائے گا۔

کوئٹہ:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب جام کمال خان کی ہدایت اور منظوری سے محکمہ زراعت وامداد باہمی نے شعبہ زراعت اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی کے چیئرمین صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری زراعت، زمیندار ایکشن کمیٹی کا نمائندہ، صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کا ایک ایک نمائندہ اور کمیٹی کی صوابدید پر کوئی بھی فردکمیٹی میں شامل ہیں جبکہ ڈپٹی سیکریٹری (ترقیات) محکمہ زراعت کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے۔ کمیٹی محکمہ زراعت اور کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لئے اپنی سفارشات فیصلے کرنے کے مجاز حکام کو پیش کرے گی، کمیٹی کا پہلا اجلاس 8اکتوبر بروز پیر ہوگا۔

کوئٹہ:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان
#نواب_جام_کمال_خان نے جسٹس (ر) امان اللہ خان یٰسین زئی کو گورنر بلوچستان کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی ہے، اپنے ایک تہنیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ نومنتخب گورنر بلوچستان شعبہ قانون وانصاف کا ایک معتبر نام ہیں جنہوں نے بحیثیت چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں، انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور مسائل کے حل کے لئے صوبائی حکومت کو گورنر بلوچستان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے گورنر بلوچستان کی مزید کامیابیوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here