وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کی ملاقات

0
1141

کوئٹہ 03اکتوبر :۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور ایران کے سفیر مہد ی ہنردوست نے دونوں ممالک بالخصوص بلوچستان اور سیستان بلوچستان کے مابین اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے مزید فروغ ، پارلیمینٹیرینز کے وفود کے تبادلوں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا وزیراعلیٰ سے ایرانی سفیر نے بدھ کے روز یہاں ملاقات کی ایرانی قونصل جنرل محمد رفیعی اور چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان موجود صدیوں پر محیط مثالی تعلقات ہیں اور گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان اور ایران کا تجارتی حجم بڑھ کر 1.3ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں آئندہ برسوں میں مزید اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی، ایرانی سفیر نے کہا کہ ایرانی قیادت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے اور باہمی تعلقات کے فروغ کے تمام دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہے جس کے لئے موجود تمام چینلز کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے، ایرانی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کی جلد تکمیل کا خواہشمند ہے، انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمنٹ کے درمیان مضبوط روابط اور تعلقات کو اہم قراردیا ، انہوں نے بتایا کہ اس ماہ دونوں ممالک کی بارڈر ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں تجارتی فروغ سے متعلق امور کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے دونوں ممالک بالخصوص بلوچستان اور سیستان بلوچستان میں بنکنگ سیکٹر کے روابط کو بھی اہم قرار دیا انہوں نے بتایا کہ ایران کے نجی شعبہ کی ایئرلائن جلد کوئٹہ زاہدان کے درمیان فضائی سروس کا آغاز کرے گی، وزیراعلیٰ نے ایرانی سفیر کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی تجارتی پابندیوں کا استقامت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اقتصادی وتجارتی روابط کے فروغ کے لئے کئے جانے والے اقدامات قابل تعریف ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ دونوں ممالک میں بہت زیادہ مماثلت ہے ، سرحدی علاقوں کے دونوں جانب رہنے والے بلوچ قبائل کے درمیان خونی رشتے موجود ہیں اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی مصنوعات کا استعمال عام ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان، ایران اور افغانستان پر مشتمل خطہ توانائی کے وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی ترقی کے لئے یہ ممالک مشترکہ طور پر کام کرکے بین الاقوامی مارکیٹ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بین الاقوامی تعلقات سے متعلق امور وفاقی حکومت کا مینڈیٹ ہیں، تاہم جلد خطے کے وسائل کی ترقی کی ضرورت کو زیادہ شدت سے محسوس کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کے توسط سے باہمی تعلقات کا فروغ اچھی روایت ہے جسے مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے وفد کو بھی ایران بھیجا جائے گا۔ ملاقات میں زائرین کو تحفظ اورسہولتوں کی فراہمی دونوں ممالک کی سرحد پر مزید دو مقامات پر آمدورفت کی سہولتوں کی فراہمی، چاہ بہار اور گوادر کے درمیان ریلوے سروس کے آغاز اور کوئٹہ تفتان روڈ اور ریل لنک کی بہتری سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ایرانی سفیر نے وزیراعلیٰ کو پارلیمانی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی، اس موقع پر وزیراعلیٰ اور ایرانی سفیر کے مابین سووینئر کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here