جب تک ہمارے معاشرے میں خوداحتسابی پیدا نہیں ہوگی بدعنوانی سے چھٹکارا ممکن نہیں،صوبے کے وسائل عوام کی امانت ہیں ان کے ایمانداری اور کفایت شعاری سے استعمال سے ہی ہمارا معاشرہ ترقی کرسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کی اس تقریب میں شرکت سے خوشی کا احساس ہورہا ہے کہ صوبے کی لوٹی ہوئی دولت واپس مل رہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ امر باعث افسوس ہے کہ بدعنوانی کی اتنی بڑی رقم کی ریکوری بلوچستان سے ہوئی ہے جو ہماری خوشیوں کو ماند کررہی ہے۔ تقریب میں شریک مختلف محکموں کے سیکریٹریز کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ تعلیم یافتہ ہیں اورچیزوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم بدعنوانی کی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں اور اس سے کیوں نکل نہیں سکتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے کافی وقت یورپ میں گزارا ہے وہاں کی ترقی دیکھ کر وہ ہمیشہ سوچتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے ہم نے ترقی کی وہ منازل طے نہیں کیں حالانکہ ذہین اور قابل لوگ ہمارے ہاں بھی ہیں شاید یورپ کے لوگوں میں ایمانداری اور ذمہ داری کا جذبہ بہت زیادہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی قوم میں بدعنوانی کے خلاف شعور پیدا کرنا ہے ،نیب اور دیگر متعلقہ ادارے کتنے بدعنون لوگ پکڑیں گے ، ہمیں اپنے اندر خوداحتسابی کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کریں اور اگر وہ بدعنوان ہیں تو ان سے حساب لیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف شعور وآگاہی ہمیں اسکول کی سطح سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، مختلف فورمز پر بدعنوانی کے تدارک کے حوالے سے بحث ومباحثے منعقد کئے جانے چاہئیں، چیئرمین نیب نے بلوچستان کے حوالے سے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ روز چینی سرمایہ کاروں کی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شریک چینی مہمانوں نے کوئٹہ کے موجودہ حالات دیکھ کر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ جب وہ 2001ء میں آئے تھے تو کوئٹہ انتہائی بہتر حالت میں تھا، انہیں پتہ ہے کہ بلوچستان وسائل سے مالامال ہے وہ پوچھ رہے تھے کہ بلوچستان کے لوگ خود کیوں یہاں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ وزیراعلیٰ نے نیب کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب ریکوری کررہی ہے، نیب ہی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو قطعی مثبت عمل نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا بہت برا حال ہے، یہاں پسماندگی اورغربت بہت زیادہ ہے، میں بیوروکریسی کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ آپ پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں بلکہ آپ لوگوں کو چیزوں کو بہتر کرنے کا بڑا موقع ملا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے سیاست سے کوئی لگاؤ نہیں جو ذمہ داری ملی ہے کوشش ہے کہ ایماندری سے ادا کروں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کا کام قانون سازی ہے نہ کہ پی ایس ڈی اور نالیاں بنوانا ہے۔ ہمیں اپنی چیزوں کو بہتر بنانا ہوگا، میں نے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ہے وہاں صحت، صفائی اور تعلیم کا برا حال ہے ہمیں اب مزید پستی کی طرف نہیں جانا۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے لوٹے ہوئے وسائل بلوچستان کے حوالے کرنے پر نیب کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب سے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اخترنذیر اور ڈی جی نیب مرزا عرفان بیگ نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں چیئرمین نیب نے وزیراعلیٰ کو ایک ارب پچیس کروڑ روپے مالیت کی پکڑی گئی جائیدادوں کی دستاویزات، چیک اور کراچی ڈیفنس میں واقع بنگلے کی چابی حوالے کی۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here