سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا

0
1607
SENATOR ABDUL REHMAN MALIK, CHAIRMAN SENATE STANDING COMMITTEE ON INTERIOR PRESIDING OVER A MEETING OF THE COMMITTEE AT PARLIAMENT HOUSE ISLAMABAD ON MAY 10, 2019.

۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایف سی ہیڈ کواٹر کوئٹہ بلوچستان کے مختص بجٹ اور مالی سا ل 2019-20کے لئے تجویز کردہ بجٹ،ایف سی پشاور صوبہ خیبر بختونخواہ کے مختص بجٹ اور مالی سال 2019-20کے لئے تجویز کردہ بجٹ، سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے اسلام آباد کی عمارتوں اور پبلک پلیسز پر معذور آفراد کے لئے سہولیات کے علاوہ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر موبائل فونز کی چوری کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں داتا دربار دھماکے کی شدید مذمت کی گئی اور قیمتی جانوں کی ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شہدا کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا داتا دربار بم دھماکے میں ایلیٹ فورس کے اہلکاروں و دیگر بیگناہ افراد کی شہادت پر دلی دکھ و افسوس ہواہے۔ لاہور میں مبینہ خودکش حملہ انتہائی تشویش ناک ہے، تحقیقات کی جائے۔لگتا ہے پاکستان دشمن عناصر پھر سے متحرک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں پہلے سے زیادہ چوکس و متحرک رہے اور حکومت بروقت و غیر معمولی اقدامات اٹھائے کہ دہشت گرد دوبارہ سر اٹھا نہ سکے۔ قائمہ کمیٹی نے داتا درباردھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اورقیمتی جانوں کی ضیاع پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا گیا قرارداد میں شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور حکومت سے داتا دربار دھماکے میں ملوث دھشتگرد، سہولت کار و نیٹ ورک بے نقاب کرنے پر زور دیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ سیکیورٹی صورتحال پر نیکٹا، چاروں انسپیکٹرجنرلز۔ھوم سیکرٹریز اور سیکرٹری دفاع سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے گی۔

ڈی آئی جی ایف سی ہیڈ کواٹر بلوچستان نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2019-20کے لئے 41.8ارب روپے تجویز کیا تھا اور صرف 17.03ارب منظور کیا گیا۔گزشتہ برس 39.22 ارب تجویز کیا تھا اور 15.45ارب روپے منظور کیا گیا تھا۔ رواں مالی سال کے دوران ڈیمانڈ سے 59 فیصد کم بجٹ دیا گیا۔ بجٹ میں کمی کے باعث فورس کا آپریشن متاثر ہوتا ہے۔گاڑیوں سمیت دیگر ساز و سامان کی خریداری میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔بارڈر پر باڑ لگانے کی جو ذمہ داری دی گئی اس کے لئے بھی 15.6ارب روپے درکار ہیں۔جوانوں کی پروموشن اور مراعات بھی دیگر فورسز سے کم ہیں۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بنائے نئے ونگز کے کے بقایاجات بھی نہیں دیے گئے۔کمیٹی ارکان کا ایف سی بلوچستان کو ضرورت سے کم بجٹ دینے پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اداروں کو مطلوبہ بجٹ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے تاکہ اُن کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں بسوں سے اُتار کر نیوی کے لوگوں کو شہیدکرنے والے تمام دہشت گرد ایران سے نہیں آئے تھے 15میں سے 12مقامی غدار شامل تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کا عمل جاری ہے جو تین سے چار سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کی ہیں اور کئی بڑے دہشت گردوں کو ہلاک بھی کیا ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف سی بلوچستان کی ملکی خدمات و قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایف سی بلوچستان ساؤتھ و نارتھ دونوں کی قربانیاں باقی اداروں سے زیادہ ہیں۔ کوشش ہوگی کہ ایف سی بلوچستان کی فنانشل مسائل کو کم سے کم کرے۔ دھشتگردی سے لڑنے کیلئے ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا بلوچستان میں بہت سے جرائم کے پیچھے بھارتی ایجنسی راء ملوث ہے۔وزایراعظم مودی نے کھلے الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو بلوچستان میں سبق دی جائیگی۔چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر رانا مقبول احمد کے زیر صدارت ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو وزارت خزانہ،وزارت پلاننگ، ایف سی ہیڈ کواٹر کوئٹہ اور ایف سی ہیڈ کواٹر خیبر پختونخواہ کے ساتھ مل کر بجٹ کے حوالے سے سفارشات تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کر ے گی۔ ذیلی کمیٹی میں سینیٹر ز کلثوم پروین اور سردار محمد شفیق ترین شامل کئے گئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزات داخلہ میں ایک میڈیا سیل قائم کیا جائے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگیوں اور کامیابیوں کی تشہیر کے لئے کام کرے۔ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پاک ایران باڈر پر انسانی اسمگلنگ بہت زیادہ ہے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا بہت بڑا علاقہ ہے سہولیات کم ہیں۔ 909کلومیٹر پاک ایران باڈر ہے لورالائی میں دہشت گردوں کے ہیڈکواٹر کو تباہ کیا مگر میڈیا نے کچھ نہیں چلایا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سمگل کئے جانے والے سات ہزار افراد کو پکڑکر واپس لائے ایک پیکج میں تین دفعہ بندے کو باہر بھیجنے کی کوشش کی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں 7لاکھ لیٹر ڈیزل کو پکڑ کر کسٹم کے حوالے کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین سے چار سو لوگ بلوچستان کے پہاڑوں کے نالوں میں چھپے ہوئے ہیں جو دہشت گردی کے کاموں میں ملوث ہیں اُن کے لیڈر اُن کو بیرون ممالک سے کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم انٹیلجنس کی خبر پر ریڈ کرتے ہیں۔ پرامن بلوچستان پروگرام میں اُن کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بلوچستان کا 10فیصد ایرا A اور 90فیصد ایرا B پر مشتمل ہے جس کو ایف سی کنٹرول کرتی ہے۔گزشتہ چھ ماہ میں تیس لاکھ ڈیزل پکڑ کر کسٹم کے حوالے کیا۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے صفوت غیور شہید اور ایف سی کے دیگر شہداء کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہوئے شہید کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ آئی جی ایف سی پشاور صوبہ خیبر پختونخواہ نے قائمہ کمیٹی کو بجٹ بارے تفصیلی آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف سی1913میں قائم کی گئی تھی جوصوبہ خیبر پختونخواہ کے 17اضلاع میں خدمات انجام دے رہی ہے جن میں سے 8پاکستان بنے سے پہلے اور 9بعد کے اضلاع شامل ہیں۔ایف سی فاٹا کے 7نئے اضلاع میں بھی خدمات سرانجام دے گی۔ ایف سی کے 361لوگ شہادت حاصل کر چکے ہیں ایف سی پاکستان آرمی، ڈیپلومیٹک مشن،پولیو ٹیم کی سیکورٹی، عدلیہ اور جیلوں کی سیکورٹی، کے پی کے اور جی بی کے سی پیک کے منصوبوں کے علاوہ این ایچ اے کے منصوبوں پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔142ایف سی پلاٹون آرمی کی مدد کر رہے ہیں جبکہ 40 پلاٹون کے پی کے کی مدد کر رہے ہیں۔ایف سی کی کل 597پلاٹون ہیں جس میں 27ہزار اہلکار ہیں جن میں سے 2ہزار سٹاف بھی ہے۔ ادارے کا بجٹ 8.9ارب روپے ہے جس میں سے 8.4ارب تنخواہوں پر خرچ ہو جا تا ہے۔36پلاٹون ایسی بھی ہیں جن میں ریٹائرڈ ایف سی اہلکار شامل کئے گئے ہیں جو مختلف کمپنیوں میں سیکورٹی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ایک جوان پر سالانہ تین لاکھ اور ماہانہ 25ہزار خرچ ہوتا ہے جس پر چیئرمین اور ارکین کمیٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فورسز جو ہمارے تحفظ کے لئے اپنی جانے تک قربان کردیتے ہیں اُن کی تنخواہیں اور مرعات نہ ہونے کے برابر ہے۔ قائمہ کمیٹی داخلہ نے ایف سی کے شہید کے لئے ایک کروڑ امداد اور ایف سی اہلکار کی تنخواہ پولیس اہلکار کے برابر کرنے کی سفارش کر دی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تنخواہیں برابر ہونی چاہئے۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو معاملات کا جائزہ لے کر رپورٹ فراہم کرے گی۔ ذیلی کمیٹی میں ڈاکٹر شہزاد وسیم اور کلثوم پروین کو شامل کیا گیا۔سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے معاملے کے حوالے سے ایس ایس پی فیصل آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ چوری کے سات ملزمان تھے جس میں سے چار کو گرفتار کیا گیا تین گرفتار نہیں ہو سکے جسکی وجہ سے ٹرائل نہیں ہو سکا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے چار ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کرنے بقیہ کو جلد سے جلد گرفتار کرنے اور کسٹم حکام کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی لڑکیوں سے چین کے لڑکوں کی شادی کے حوالے سے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیا میں آیا ہے کہ چینی نوجوان پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے بعد جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں اور اُن کے اعضاء نکالے گئے ہیں میں نے ایف آئی اے کو دو خطوط لکھے آج صبح ایف آئی حکام نے بریف کیا کہ 90فیصد لڑکیاں عیسائی اور 10فیصد پاکستانی ہیں۔ لاہور میں تین گھر کرائے پر لئے گئے تھے گزشتہ سال بھی 256لڑکیاں بھیجی گئی تھی۔ چین کے سفارتخانے نے اسکا سخت نوٹس لیا ہے۔رحمان ملک نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر مختلف طریقوں سے حملے کیئے جا رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ بھی ایک سازش کے تحت کیا جا رہا ہو۔ چیئرمین کمیٹی نے اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین، محمد جاوید عباسی، میاں محمد عتیق شیخ، رانا مقبول احمد، محمد طلحہ محمود، سردار محمد شفیق ترین اور ڈاکٹر شہزاد وسیم کے علاوہ سپیشل سیکرٹری داخلہ میاں وحیدالدین، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سکندر قیوم،کمانڈر ایف سی کے پی کے، ڈی آئی جی ایف سی بلوچستان، ایس ایس پی فیصل آباد، ڈی سی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here